Trending PakistanNews

آٹا بحران، کبھی تو سچ بول لیجیے!

مہنگا آٹا

آٹا بحران، کبھی تو سچ بول لیجیے!    

 

 

 

بادشاہ لوئی کے زمانے میں فرانس میں جب بہت زبردست قحط پڑا

 

تو اس وقت لوگ بادشاہ کے محل کے ارد گرد جمع ہوگئے اور مظاہرہ کرنا شروع کر دیا

فرانس کی ملکہ کو تشویش ہوئی اور اس نے لوگوں سے پوچھا   لوگوں نے جواب دیا

کہ وہ بھوکے ہیں اور وہ روٹی مانگ رہے ہیں

 

ملکہ نے کہا تو ان سے کہو لوگ کیک کھانا شروع کردیں

 

یہی ایک وجہ تھی جو فرانس میں انقلاب لے کر آئیں

 

آج زراعت کے شعبے میں خودکفیل ملک پاکستان ان جو گندم کی پیداوار میں بھی خود کفیل ہے

ناقص منصوبہ بندی اورغیردانشمندی کے فقدان کے سبب جب ملک میں آٹے کا سنگین بحران پیدا ہوا

 

اس کے اوپر سونے سواگہ یہ بات  ہوئی کہ حکومتی اراکین ایسے طنز برے بیانات آٹے کے بحران پر دے رہے ہیں

جو لوگوں کے جسم پر پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے

 

آٹا نہیں مل رہا یہ

یہ عام خبر ہے لیکن لوگوں کو مہنگا آٹا بھی نہیں مل رہا

 

حیرت کی بات تو یہ ہے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت جناب عارف علوی صاحب تو آٹا بحران سے ویسے ہی

لا اعلم نکلے

 

اور خسروبختیار تو ماضی کی طرح بھی اعدادوشمار لے کر حاضر ہوئے اور کہنے لگے ایک عام آدمی سال میں ایک سو پندرہ کلو آٹا کھا جاتا ہے

مشیراطلاعات میں بحران کو معافیہ کا پیدا کردہ قرار دے کر اپنی جان بچا لی

 

جبکہ حکومت کے اتحادی شیخ رشید صاحب کا کہنا ہے آٹے کا بحران پیدا ہونے کی اصل وجہ یہ ہے

کہ لوگ سردیوں میں بہت زیادہ روٹی کھاتے ہیں

 

 

گزشتہ سال 14 جون کو سرکاری خبر رساں ادارے نے خبردی کی گندم کی ملکی ضرورت 25.8 ملین ٹن ہے جبکہ ملک میں 27.9 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ موجود ہے

 

باوجود اس کے ایک گزشتہ سال شدید بارشوں اور ژالہ باری سے گندم کی فصل بہت حد تک متاثر ہوئی

1.28 ملین ٹن گندم کی پیداوار میں شدید کمی دیکھی گئی

 

لیکن گزشتہ حکومت کے منصوبہ بندی اور پلاننگ کے باعث پاکستان

 

کے پاس  3.7 ملین ٹن گندم کا ذخیرہ موجود رکھ سکی تھی

 

جس سے پیداوار کے معاملے قابو پا لیا گیا

 

لیکن موجودہ حکومت ناقص منصوبہ بندی نے گندم کی پیداوار میں آٹھویں نمبر پر موجود ملک کو گندم کی قلت سے شدید دوچار کردیا

 

آپ کو بتاتے چلیں یہ معاملہ اچانک پیدا نہیں ہوا تین ماہ قبل حکومت کو آٹے کے بحران سے متعلق خبر مل چکی تھی

یونکہ پورے ملک میں تین ماہ قبل گندم کے 60 لاکھ ٹن ذخائر موجود تھے

جبکہ پاکستان کی ماہانہ مجموعی ضرورت دس لاکھ ٹن ہے

 

اور چاروں صوبوں میں دس لاکھ میں پنجاب پانچ لاکھ خیبرپختونخوا دوسرے اور بلوچستان تیسرے نمبر پر ہے

 

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ذرائع کے مطابق اس وقت ان کے پاس 39 لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں

جن کو جاری کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے

 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ملک کے اندر ایسے پھر آٹے کا بحران کیوں پیدا ہوا اس کا جواب نہ دیا کے لیے مصنوعی بحران پیدا کیا گیا ہے

 

 

Hits: 0

Tags

admin

Top Trend is all about to provide you information and news alerts ain all fields Top Trending is about trending topics over the world Our expertise is to share trending topic Sports,news,health,entertainment science politics

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
Close
Close